Home Top Ad

Responsive Ads Here

ہیرا ‏بننا ‏جوکھوں ‏کا ‏کام

ہیرے کی پہچان 

بانو قدسیہ آپا ناول "راجہ گدھ" سے اقتباس 
ہیرا بننے کے گر........

"جو دباو سہہ جائے وہ ھیرا جو نہ سہہ سکے وہ کوئلہ "
مجھے بابا دین محمد نے آج بہت بڑی بات سمجھائی تھی ۔ میں جان گیا تھا کہ اصلی اور نقلی میں صرف برداشت اور سہہ جانے کا فرق ھے ۔ میں نے پوچھا بابا انسان آخر کب تک برداشت کرے؟کب تک لوگوں کے طعنے سہے؟ کب تک اپنے غصے کو پئے؟ آخر برداشت کی کوئی حد ھوتی ھے۔
بابا مسکرایا اور بولا بیٹا اس وقت تک سہنا ھے جب تک ھیرا نہ بن جاؤ۔
میں نے پوچھا پھر اس کے بعد؟
بابا نے کہا ھیرا بننے کے بعد ھیرے پر کوئی دباؤ، کوئی آگ اور کوئی تپش اثر نہیں کرتی ۔