Home Top Ad

Responsive Ads Here

ممتازمفتی کی بانوقدسیہ کے بارے میں تحریر سے ایک اقتباس

 بانوقدسیہ کے بارے میں تحریر

  ایک دن اشفاق کھانا کھاتے ہوئے کہے کہ کھانے کا مزہ تو تب آتا تھا جب اماں مٹی کی ہانڈی میں پکاتی تھیں- اگلے روز قدسی کے باورچی خانے میں مٹی کی ہاںڈیا چولہے پر دھری ہوگی-

پہلی مرتبہ میں نے بانو کو سنا جب قدسی کے بڑے بیٹے نوکی نے کہا امی ایڈیٹر صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں قدسی ڈرائینگ روم میں چلی گئی- پھرڈرائنگ روم میں کوئی باتیں کررہی تھی – افسانوں کی باتیں- کرداروں کی باتیں- مرکزی خیال اندازِ بیان کی خصوصیات کی باتیں- ان باتوں میں فلسفہ ، نفسیات اورجمالیات تھی-

  میں حیرت سے سن رہا تھا- اللہ اندر توقدسی گئی تھی لیکن یہ باتیں کون کر رہی ہے- قدسی نے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کیں وہ تو خالی جی ہاں ، جی ہاں ہے اگر مگر، چونکہ ، چنانچہ کون ہے

  تب مجھے پتہ چلا بانو کون ہے-

(ممتازمفتی کی بانوقدسیہ کے بارے میں تحریر سے ایک اقتباس )